Tuesday, January 31, 2017




ٹوم اولٹر


نوشتہ بماند سیہ بر سفید 
(قسطِ اوّل)
اس شمارے میں ہم مشہور تھیٹر آرٹسٹ اور فلم ادا کار تھومس بیچ اولٹر (Thomas Beach Alter) المعروف بہ ٹوم اولٹر (Tom Alter) کی خود نوشت سوانح کی پہلی قسط شائع کررہے ہیں جو انھوں نے خصوصی طور پر ’اردو ادب‘ کے لیے تحریر کی ہے۔ٹوم اولٹر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ سرِ دست اپنی خود نوشت سوانح کے کم سے کم پانچ باب ضرور لکھیں گے جن میں پہلا باب ان کے مختصر حالاتِ زندگی اور ان محرکات پر مبنی ہوگا جو انھیں تھیٹر اور فلم کی دنیا کی طرف لے گئے۔ اس کے بعد کے ابواب ان کی اردو تھیٹر سے وابستگی، ہندستان میں انگریزی تھیٹر اور اس سے ٹوم اولٹر کا تعلق، فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (FTII) پونے اور امریکہ میں ان کے دورِ طالبِ علمی اور اس وقت کے سیاسی و ثقافتی حالات اور بمبئی کی فلمی زندگی پر مشتمل ہوں گے۔ ٹوم اولٹر جب امریکہ میں تھے تو وہ زمانہ امریکہ اور ویت نام کی جنگ کا زمانہ تھا۔ ہمیں توقع ہے کہ ٹوم اولٹر جو کسی بھی طرح اصطلاحی اردو والوں میں شمار نہیں ہوسکتے، ان کی اردو ادب، ثقافت اور تہذیب نیز تھیٹر سے وابستگی کے کچھ مرقّع یہ خود نوشت سوانح قارئین کے لیے ضرور پیش کرسکے گی۔ غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے ٹوم اولٹر کو ڈرامے کا انعام (ہم سب غالب انعام براے اردو ڈرامہ) 2014 میں دیا جو اس بات کا غماز ہے کہ اردو دنیا نےاردو ڈرامے کے لیے ان کی خدمات کا دیر سے ہی سہی مگر اعتراف کیا۔ 
(ادارہ )

آج یکم مئی (May Day) 
یعنی مزدوروں کا دن ہے جس میں ہر وہ شخص چھٹی منانے کا حق دار ہوتا ہے جو کسی بھی سطح پر خود کو
 مزدور تصوّر کرے۔ فلمی دنیا کے بھی بہت سے لوگ اِس دن کام نہیں کرتے مگر میں آج بھی اس لیے کام کر رہا ہوں کہ موجودہ سامراجی نظام نے مزدوروں کے حالات اتنے خراب کردیے ہیں کہ اب ان کے لیے یکم مئی کو بھی چھٹی منانا ممکن نہیں رہ گیا ہے۔ اپنی خود نوشت سوانح کی تحریر کا کام بھی میں آج ہی شروع کررہا ہوں کہ یومِ مئی سے زیادہ مناسب دن ایک مزدور کے لیے دوسرا نہیں ہوسکتا۔2016 کی ایک افادیت یہ بھی ہے کہ اس برس میرے خاندان کو ہندستان میں آئے ہوئے پورے سو برس ہوگئے۔
میں 22جون 190 کو پیدا ہوا، اس اعتبار سے اب میری عمر تقریباً 66 برس ہے۔ خواجہ احمد عبّاس جب ساٹھ سال کے ہوئے تو انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح (I am not an Island) لکھنی شروع کی تھی۔ خواجہ احمد عباس نے کسی اور ایک مقام پر ایک بڑی اہم بات کہی تھی جو ہم سب کو یاد رکھنی چاہیے :
’’ 7جون 1914 (ولادت پانی پت) سے دسمبر 1976 (بمبئی) تک میرے حصّے میں جتنے بھی شب و روز آئے ہیں ، ان پر میرا کوئی اجارہ نہیں۔
میں خواجہ احمد عبّاس ، کہانی کار، صحافی، فلم سازاور ہدایت کار کے روپ میں پَل پَل جیتا رہا ہوں۔ کتنی بار سوچا ہے کہ خود کو کسی ایک سانچے میں ’’فٹ‘‘ کرلوں، تاکہ یہ شب و روز میرے اپنے ہوجائیں لیکن یہ دیکھ کر اور سوچ کر کہ میری نسل نے جس ادبی، صحافتی، سیاسی اور سماجی انقلاب کی بنیاد رکھی تھی وہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے، میں نے خود کو علاحدہ علاحدہ شعبوں میں اس لیے تقسیم کردیا ہے کیوں کہ جب انقلاب آتا ہے تو وہ زندگی کے صرف ایک شعبے میں نہیں آتا بلکہ زندگی ، سیاست ، ادب ، صحافت، کلچر، زبان، ثقافت اور معاشیات کے مختلف النوع پہلوؤں کو بھی اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔‘‘ 
خواجہ احمد عباس نہ صرف وسیع الجہات شخصیت کے مالک تھے بلکہ اپنی غیر معمولی دیانت داری اور سوشل کمٹ منٹ نیز اصولوں کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مفاہمت نہ کرنے کی وجہ سے بمبئی کی فلمی دنیا میں ان کی جو عزّت تھی اُس کی دوسری کوئی مثال شاید ہی ملے۔ میری بھی یہ مسلسل کوشش رہتی ہے کہ میرے پلے کسی نہ کسی زاویے سے سماجی مسائل کی نشا ن دہی ضرور کریں۔ ان 
کی زبان اس سماجی پیچیدگی کی آئینہ دار ہو جس کی عکّاسی پلے میں کی گئی ہے۔ 
انگریزی میں اکثر خود نوشت سوانح نگار To pegin with the beginning کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ میرے جیسے شخص کے لیے جو وقت کی قلّت کی وجہ سے اپنی تحریروں کو بہت کم وقت دے سکا ہے، اس تحریر کی ابتدا کے لیے شروعات سے شروع کرنے کا طریقہ آسان ہے۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے اردو کے استاد نے بہت سختی کے ساتھ لفظ شروعات کے استعمال کی ممانعت کی تھی کیوں کہ استادِ محترم کے مطابق یہ لفظ از روے قواعد غلط ہے مگر اردو جیسی زبان کی قوت ہی لفظوں کو اپنی مخصوص لسانی ساخت میں ڈھال لینا ہے، اس لیے، مجھے Begin from the beginning کے لیے شروعات سے شروع کرنے کا فقرہ اپنی نہایت محدود علمی صلاحیتوں کی وجہ سے مناسب معلوم ہوتا ہے۔
میری والدہ مرحومہ باربرا صاحبہ نے مجھے ایک بہت ہی اچھی بات بتائی تھی کہ جس مقام پر ایک بچّہ رحمِ ماد ر میں اپنا وجود قائم کرتا ہے ، اصولاً اس کی جاے پیدائش وہی جگہ ہونی چاہیے۔ اس اصول کی رو سے میرے وجود نے رحمِ ماد ر میں جگہ تو مری جو موجودہ پاکستان کا پُر فضا پہاڑی مقام ہے، میں بنائی لیکن پیدائش کا مقام مسوری ہے جو اَب ہندستان کے صوبۂ اُترا کھنڈ میں ہے اور میری پیدائش کے وقت اترپردیش میں تھا ۔مَری اور مسوری دونوں ہی سے ہمارا خاص تعلق ہے کیوں کہ مری میں ایک کرسچن اسکول ہے جس کے قیام میں میرے دادا ایم. اے. اولٹر نے فیصلہ کُن رول ادا کیا تھاجو بعد میں مسوری کے مشہورِ زمانہ Woodstock اسکول کے پرنسپل بھی رہے۔ 
مَری، پاکستان کا وہ کرسچن اسکول اب بھی چل رہا ہے۔ اس کا نام ہی ’مری کرسچن اسکول ‘ ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اس اسکول پر تقریباً بیس سال پہلے ایک حملہ ہوا تھا جس میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ 
میرے دادا اور دادی ٹھیک سو سال پہلے 1916 میں پہلی عالمی جنگ (First World War) کے زمانے میں ہندستان آئے تھے اور پنجاب کے اس حصّے میں جو اَب پاکستان میں ہے، سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ خاندان کے افراد راول پنڈی، مری، پشاور اور سیالکوٹ کے علاقے میں رہتے تھے۔ میرے والد کی پیدائش سیالکوٹ کی تھی۔
مغربی ممالک اور مغربی نژاد ان خاندانوں میں بھی جو ایشیا میں بس گئے ، خاندان کی تفصیلات کو محفوظ کرنے کا عمل عام ہے مگر اغلب ہے 
کہ ہمارے خاندان میں اب یہ تفصیلات موجود نہیں یا کم سے کم مجھے ان کا علم نہیں۔
میری والدہ کے خاندان کا تعلق یونائیٹڈ اسٹیٹ کے اس علاقے سے ہے جسے نیو انگلینڈ کہتے ہیں اور والد صاحب کے خاندان کا تعلق ہائی اسٹیٹ سے ہے لیکن اس سلسلے میں بھی میرے پاس تفصیلی معلومات شاید اس لیے نہیں ہے کہ ہمارے خاندان کو سو سال تو ہندستان ہی میں ہوگئے ہیں اور اب یہاں ہماری پانچویں نسل ہے ۔ بیٹے جمی اولٹر نے راجستھان کے ایک ہندو خاندان میں شادی کی ہے اور بیٹی افشاں امریکہ میں قیام پذیر ہے۔
میری پیدائش کے زمانے میں میرے والدین الہ آباد میں اس لیے رہتے تھے کہ والد صاحب ایونگ کرسچن کالج(Ewing Christian College) میں انگریزی کے اُستاد تھے۔ ایک زمانے میں اس کالج کا بڑا نام تھا۔ اردو کے مشہور مصنّف ابنِ صفی اور صاحبِ اسلوب اور کج کلاہ شاعر مصطفےٰ زیدی بھی اسی کالج کے طالبِ علم رہ چکے ہیں۔ یہ دونوں ہی پاکستان چلے گئے تھے۔ مصطفےٰ زیدی نے سول سروس جوائن کی مگر دنیا کے معاملات سے ان کی پوری طرح عدمِ واقفیت کے سبب ان کی زندگی کا خاتمہ پُر اسرار موت پر ہوا۔ 
میرے والد نے ایونگ کرسچن کالج 1946 میں جوائن کیا تھا۔ تقسیمِ ہندستان کے وقت وہ الٰہ آباد ہی میں تھے۔میرے والد الہ آباد سے وابستہ دو مخصوص واقعات کو خاص طور پر یاد کرتے تھے جن میں ایک تو اس لمحے کے غیر معمولی تاثر سے وابستہ تھا جب آزادی کی رات پنڈت نہرو کی مشہورِ زمانہ تقریر150150 Tryst with Destiny جو ریڈیو سے براڈ کاسٹ ہوئی تھی۔ دوسرے اس لمحے کو جب گاندھی جی کا انتقال ہوا اور ان کی راکھ کو گنگا میں بہانے کے لیے الہ آباد لایا گیا۔ اس وقت آل انڈیا ریڈیو والوں نے براہِ راست نشریات کے مقصد سے ایک بہت بڑا ٹاور کھڑا کیا تھاجس پر ایم. ڈیملو کے ساتھ میرے والد بھی بیٹھے تھے۔ میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ آٹھ گھنٹے تک یہ لوگ اوپر بیٹھ کر وہاں سے آل انڈیا ریڈیوکے لیے کمنٹری کرتے رہے مگر اس آٹھ گھنٹے کے عرصے میں وہاں تمام وقت سنّاٹا چھایا رہا۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ پھر نہرو اور پٹیل اس کشتی میں آئے جس میں گاندھی جی کی آخری رسوم کے بعدکی باقیات گنگا کے حوالے کرنے کے لیے رکھی ہوئی تھیں۔ تین چار لاکھ لوگوں کامجمع بڑی خاموشی سے یہ نظّارہ دیکھ رہا تھاجو اس غیر معمولی عزت و احترام کا علامیہ تھا جو عوام کے دلوں میں اپنے اس عظیم رہ نما کے لیے تھی۔
میرے والدین نے مسوری اور دہرہ دون کے بیچ راج پور جو اَب ایک بڑا قصبہ بن چکا ہے، میں ایک آشرم قائم کیا تھا جس کا نام انھوں نے ’مسیحی دھیان کیندر‘ رکھا تھا۔میری پرورش اسی راج پور یا مسوری میں ہوئی۔ راج پور قصبے میں اچھا خاصا مارکیٹ اور بازار تھا جہاں میں رہتے تھے لیکن تقسیم کے وقت سب کو وہاں سے نیست و نابود کردیا گیا۔ جب میں چھوٹا تھا تو دیکھتا تھا کہ وہ سب دوکانیں اور عمارتیں خاکستر ہوچکی ہیں جو کبھی مسلمانوں کی ملکیت تھیں۔ میں اپنے والد کے ساتھ جب وہاں سے گزرتا تھا تو اکثر اُن سے پوچھتا تھا کہ ڈیڈی یہ دوکانیں اور عمارتیں ایسی کیوں ہیں تو وہ کچھ بتاتے نہیں تھے۔ بعد میں جب میں تھوڑا بڑا ہوا، سمجھ لیجیے کہ کوئی دس سال کا تو میری والدہ نے مجھے بتایا کہ یہ سب مسلمانوں کی دوکانیں اور مکانات تھے جنھیں تقسیمِ ہندستان کے وقت نذرِ آتش کرد یا گیا۔ شاید میرے والد صاحب ایسے دکھ اور درد سے میرے معصوم ذہن کو دور رکھنا چاہتے تھے ۔ 
آزادی کے بعد ایک طرح سے ہمارے خاندان کا بھی باقاعدہ بٹوارہ ہوا۔ ہمارے دادا اور دادی دونوں پاکستان میں رہ گئے۔میرے دادا کا بہت جلدی غالباً 1952-53 میں انتقال ہوگیا، اس لیے، ان کے بارے میں مجھے کچھ یاد نہیں ہے لیکن میری دادی تقسیم کے بعد بہت دنوں تک حیات رہیں۔ وہ بالکل میم صاحبہ کی طرح تھیں۔ ہم لوگوں سے ملاقات کرنے کے لیے وہ جب بھی ہندستان آتی تھیں تو بہت فخر سے کہتیں کہ میں تو پاکستانی ہوں۔ دادا کے انتقال کے بعد وہ امریکہ چلی گئیں۔ میری دادی کی ایک دل چسپ بات یہ تھی کہ وہ جب جب ہندستان آتی تھیں تو یہاں کی ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نَقص نکالتی تھیں۔ مثلاً سڑکوں اور ٹریفک کو لے کر وہ اکثر کہتیں کہ پاکستان میں تو ایسا نہیں ہے ۔وہاں تو سڑکیں کافی کشادہ ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سُن کر ہم ان سے خفا ہوجایا کرتے تھے کہ یہ پاکستان کی کیوں تعریف کرتی رہتی ہیں۔ بہر حال ہند و پاک کے درمیان ہونے والے عجیب و غریب بٹوارے سے ہمارا خاندان بھی محفوظ نہ رہ سکا۔
بٹوارے کے وقت جو ہمارے سب سے چھوٹے چچا تھے وہ ہندستان میں ہی تھے۔والد صاحب کے دو اور بھائی150 جو بیچ کے تھے150 وہ امریکہ میں تھے۔والدین اور چھوٹے چچا سب اس طرف یعنی ہندستان میں رہے اور دادا دادی نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ وہ زمانہ تو میں نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھالیکن جیسا کہ میں کہہ رہا تھا کہ میرے والد کو بہ طورِ خاص تاریخ میں اور ان چیزوں میں بہت زیادہ دل چسپی تھی جن کا تعلق تقسیمِ ملک کے واقعات سے تھا۔ وہ اکثر صبح کے ناشتے پر تقسیمِ ہندستان، آزادی، ڈیموکریسی اور مذہب کی باتیں کرتے تھے۔ بٹوارہ کیوں ہوا، اس کی کیا ضرورت تھی جیسے سوالوں نے انھیں زندگی بھر پریشا ن رکھا۔ میرے والد کو کمیونزم میں دل چسپی تھی اور وہ مولانا آزاد کو بھی بہت پسند کرتے تھے۔
                 (جاری   )           

Monday, January 30, 2017




عرفان ستارکے شعری مجموعہ ساعت امکاں سے ۔

مجلسِ غم نہ کوئی بزم ِ طرب، کیا کرتے

گھر ہی جا سکتے تھے آوارہِٗ شب، کیا کرتے


یہ تو اچھا کیا، تنہائی کی عادت رکھی
تب اِسے چھوڑ دیا ہوتا، تو اب کیا کرتے



روشنی، رنگ، مہک، طائر ِ خوش لحن، صبا
تُو جو آتا نہ چمن میں تو یہ سب کیا کرتے



دل کا غم دل میں لیے لوٹ گئے ہم چپ چاپ
کوئی سنتا ہی نہ تھا شور و شغب کیا کرتے
کچھ کیا ہوتا تو پھر زعم بھی اچھا لگتا
ہم زیاں کار تھے، اعلان ِ نسب کیا کرتے



دیکھ کر تجھ کو سرہانے ترے بیمارِ جنوں
جاں بلب تھے، سو ہوئے آہ بلب، کیا کرتے



تُو نے دیوانوں سے منہ پھیر لیا، ٹھیک کیا
اِن کا کچھ ٹھیک نہیں تھا کہ یہ کب کیا کرتے



یہی ہو نا تھا جو عرفانؔ ترے ساتھ ہُوا
منکرِ میرؔ بھلا تیرا ادب کیا کرتے



2.
یہ کیسے ملبے کے نیچے دبا دیا گیا ہوں
مجھے بدن سے نکالو، میں تنگ آگیا ہوں 



کسے دماغ ہے بے فیض صحبتوں کا میاں
خبر اُڑا دو کہ میں شہر سے چلا گیا ہوں



مآلِ عشق ِ انا گیر ہے یہ مختصراً
میں وہ درندہ ہوں جو خود کو ہی چبا گیا ہوں



کوئی گھڑی ہے کہ ہوتا ہوں آستین میں دفن
میں دل سے بہتا ہُوا آنکھ تک تو آگیا ہوں



مرا تھا مرکزی کردار اِس کہانی میں
بڑے سلیقے سے بے ماجرا کیا گیا ہوں



وہ مجھ کو دیکھ رہا ہے عجب تحیّر سے
نجانے جھونک میں کیا کچھ اُسے بتا گیا ہوں



مجھے بھلا نہ سکے گی یہ رہگزار ِ جنوں
قدم جما نہ سکا، رنگ تو جما گیا ہوں



سب اہتمام سے پہنچے ہیں اُس کی بزم میں آج
میں اپنے حال میں سرمست و مبتلا گیا ہوں



مرے کہے سے مرے گرد و پیش کچھ بھی نہیں
سو جو دکھایا گیا ہے وہ دیکھتا گیا ہوں
اُسے بتایا نہیں ہجر میں جو حال ہُوا
جو بات سب سے ضروری تھی وہ چھپا گیا ہوں



غزل میں کھینچ کے رکھ دی ہے اپنی جاں عرفانؔ 
ہر ایک شعر میں دل کا لہو بہا گیا ہوں



3.


عجب ہے رنگِ چمن، جا بجا اُداسی ہے
مہک اداسی ہے، باد ِ صبا اُداسی ہے



نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اُداسی ہے



میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اُداسی میں
میں وہ ہوں جس میں کہ خود مبتلا اُداسی ہے



طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں
بہت جو پوچھا تو اتنا کہا، اُداسی ہے



گداز ِ قلب خوشی سے بھلا کسی کو ملا
عظیم وصف ہی انسان کا اُداسی ہے



شدید در دکی رو ہے رواں رگِ جاں میں
بلا کا رنج ہے، بے انتہا اُداسی ہے



فراق میں بھی اُداسی بڑے کمال کی تھی
پسِ وصال تو اُس سے سِوا اُداسی ہے



تمہیں ملے جو خزانے، تمہیں مبارک ہوں
مری کمائی تو یہ بے بہا اُداسی ہے



چھپا رہی ہو، مگر چھپ نہیں رہی مری جاں
جھلک رہی ہے جو زیر ِ قبا اُداسی ہے
مجھے مسائل ِ کون و مکاں سے کیا مطلب
مرا تو سب سے بڑا مسئلہ اُداسی ہے



فلک ہے سر پہ اُداسی کی طرح پھیلا ہُوا
زمیں نہیں ہے مرے زیر ِ پا، اُداسی ہے



سخن کے بھیس میں آئی ہے آج محرمِ درد
غزل کی پہنے ہوئے ہے ردا، اُداسی ہے



عجیب طرح کی حالت ہے میری بے احوال
عجیب طرح کی بے ماجرا اُداسی ہے



وہ کیفِ ہجر میں اب غالباً شریک نہیں
کئی دنوں سے بہت بے مز ا اُداسی ہے



وہ کہہ رہے تھے کہ شاعر غضب کا ہے عرفانؔ 
ہر ایک شعر میں کیا غم ہے، کیا اداسی ہے



4.
راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے
ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے



حسن اتنا تھا کہ ممکن ہی نہ تھی خود نگری
ہم کہاں تک ترے غم کی نگرانی کرتے



شعلہِٗ جاں کو بجھاتے یونہی قطرہ قطرہ
خود کو ہم آگ بناتے، تجھے پانی کرتے



پھول سا تجھ کو مہکتا ہُوا رکھتے شب بھر
اپنے سانسوں سے تجھے رات کی رانی کرتے
ندّیاں دیکھیں تو بس شرم سے پانی ہوجائیں
چشمِ خوں بستہ سے پیدا وہ روانی کرتے



سب سے کہتے کہ یہ قصہ ہے پرانا صاحب
آہ کی آنچ سے تصویر پرانی کرتے



در و دیوار بدلنے میں کہاں کی مشکل
گھر جو ہوتا تو بھلا نقل مکانی کرتے



کوئی آجاتا کبھی یونہی اگر دل کے قریب
ہم ترا ذکر پئے یاد دہانی کرتے



سچ تو یہ ہے کہ ترے ہجر کا اب رنج نہیں
کیادکھاوے کے لیے اشک فشانی کرتے
دل کو ہر لحظہ ہی دی عقل پہ ہم نے ترجیح
یارِ جانی کو کہاں دشمنِ جانی کرتے



شب اِسی طرح بسر ہوتی ہے میری عرفانؔ 
حرفِ خوش رنگ کو اندوہِ معانی کرتے



5.


اپنی خبر، نہ اُس کا پتہ ہے، یہ عشق ہے
جو تھا نہیں ہے، اور نہ تھا ہے، یہ عشق ہے



پہلے جو تھا، وہ صرف تمہاری تلاش تھی
لیکن جو تم سے مل کے ہُوا ہے، یہ عشق ہے



تشکیک ہے، نہ جنگ ہے مابینِ عقل و دل
بس یہ یقین ہے کہ خدا ہے، یہ عشق ہے



بے حد خوشی ہے، اور ہے بے انتہا سکون
اب درد ہے، نہ غم، نہ گلہ ہے، یہ عشق ہے
کیا رمز جاننی ہے تجھے اصل ِ عشق کی
جو تجھ میں اِس بدن کے سِوا ہے، یہ عشق ہے



زیرِ قبا جو حسن ہے، و ہ حسن ہے خدا
بندِ قبا جو کھول رہا ہے، یہ عشق ہے



شہرت سے تیری خوش جو بہت ہے، یہ ہے خرد
اور یہ جو تجھ میں تجھ سے خفا ہے، یہ عشق ہے



ادراک کی کمی ہے سمجھنا اِسے مرض
اِس کی دوا، نہ اِس کی دعا ہے، یہ عشق ہے



شفاف و صاف، اور لطافت میں بے مثال
سارا وجود آئینہ سا ہے، یہ عشق ہے
یعنی کہ کچھ بھی اُس کے سِوا سوجھتا نہیں
ہاں تو جناب، مسئلہ کیا ہے، یہ عشق ہے



جو عقل سے بدن کو ملی تھی، وہ تھی ہَوس
جو روح کو جنوں سے ملا ہے، یہ عشق ہے



اِس میں نہیں ہے دخل کوئی خوف و حرص کا
اِس کی جزا، نہ اِس کی سزا ہے، یہ عشق ہے



سجدے میں ہے جو محوِ دعا، وہ ہے بے دلی
یہ جو دھمال ڈال رہا ہے، یہ عشق ہے



ہوتا اگر کچھ اور، تو ہوتا انا پرست
اِس کی رضا شکست ِ انا ہے، یہ عشق ہے



عرفانؔ ماننے میں تاٗمل تجھے ہی تھا
میں نے تو یہ ہمیشہ کہا ہے، یہ عشق ہے




علی اکبر ناطق کا تیسرا شعری مجموعہ(سر منڈل کا راجہ) جلدآپ کے ہاتھوں میں ہوگا اس سے پہلے ْبے یقین بستوں میں ٌاور ْیاقوت کے
 ورقٗمنطر عام پر آچکے ہیں جسے اردوداں طبقے نے بہت پسند کیا یہ ایسے نوجوان لکھنے والے ہیں جنہیں بزرگ بھی اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنانئے لکھنےاور پڑھنے والے یہ نظمیں ان کے تیسرے شعری مجموعہ سے پیش کی جارہی ہیں جو چند دنوں میں شائع ہوجائے گا۔اس شعری کتاب پر شمس الرحمن فاروقی اور زیف سید نے اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے جسے ہم ناطق صاحب کے شکریے کے ساتھ یہاں لگا رہے ہیں
( انجمن ترقی اردو ہند،اردو گھرنئی دلی)   
علی اکبر ناطق کے بارے میں اب یہ حکم لگانا مشکل ہو گیا ہے کہ جدید شعر میں ان کی اگلی منزل آگے کہاں تک جائے گی کہ ہر بار وہ پہلے سے زیادہ چونکاتے ہیں ۔ اُن کے پہلے کلام میں تازگی اور میرا جی کی سی قوت اور داخلیت تھی۔ روایت اور تاریخ کا شعور بھی حیرت زدہ کرنے والا تھا۔ اب کے کلام میں لہجہ جدید نظم کے کلاسک شعرا سے بالکل الگ بھی ہے، نیا بھی ہے اور جوشِ درد سے بھی بھرا ہواہے اور صرف اور صرف اُن کا اپنا ہے ،اِس سے پہلے ایسی روایت موجود نہیں ہے ۔ محبت کی باتیں بہت ہیں لیکن اُن میں زیاں اور ضرر کا احساس بھی زیادہ ہے۔ لہجہ پیغمبرانہ ہے ۔ نظم کا بہاؤ اور آہنگ کی روانی ایسی ہے کہ حیرت پر حیرت ہوتی ہے، خاص کر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس وقت ان کے کلام پر پنجابی کا اثر عام سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ پیوند بہت ہی اچھے لگتے ہیں۔
اِس مجموعے کی نظمیں ہماری جدید شاعری کے لئے ایک مطلق نئی چنوتی لے کر آئی ہیں ۔ اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے۔
الٰہ آباد
دسمبر ۶۱۰۲ شمس الرحمٰن فاروقی

علی اکبر ناطق کی لگ بھگ ہر نظم سُننے کے بعد جب بھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید اِس نے اپنے اظہار کی معراج حاصل کر لی ہے اور اِس سے آگے بڑھنا نا ممکن ہو گا ،وہ اگلی ہی نظم میں ایک نیا راستہ اختیارکر کے نئے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے ۔ اِس کی مثال کے لیے: یاقوت کے ورق : میں شامل سفیرِ لیلیٰ دیکھیے جو اپنی اُٹھان کے لحاظ سے زمانہء قبل از اسلام کے سبع معلقات کی یاد دلاتی ہے اوراِس کے بعد زیرِ نظر مجموعے میں دیسی رنگ ڈھنگ کی نظمیں دیکھیں ۔ یقین کرنا مشکل ہو گا کہ یہ ایک ہی شاعر کی تخلیقات ہیں ۔اِس سے پہلے بھی کئی شاعروں نے ؛چناب رنگ : پر مبنی شاعری کی ہے لیکن وہ بڑی حد تک اُردو میں پنجابی الفاظ کھپانے تک محدود رہے ہیں ۔ اُن کے مقابلے پر علی اکبر ناطق کی ،،نفیریاں بجانے والیاں ،،ناگ ، نیلا پنکھو ،لقے کبوتر پالنے والے ،شریر بالیو ، مرے چاند ، میں چانن کے دیس کا پنکھو ،وغیرہ ایسی نظمیں ہیں جن کی صرف لفظیات ہی مقامی نہیں بلکہ ناطق نے اُن کا اُسلوب ،ساخت ،روایات حتیٰ کہ متھالوجی تک پنجابی رکھی ہے ،جس سے اِن نظموں میں آپ کو پنجاب کی مٹی کی سوندھی خوشبو اپنے تمام رنگوں کے ساتھ محسوس ہونے لگتی ہے اور دور کہیں باجے کے ساتھ بھنگڑے اور ڈھول کی ہلکی تھاپ سنائی دینے لگتی ہے جو قریب آنے پر بھی بھلی لگتی ہے ۔یہ پنجاب رنگ پہلے ناطق کے افسانوں میں ملتا تھا لیکن شاعری کا خمیر کسی دوسری دنیا سے اُٹھاتا تھا مگر موجودہ نظموں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی تخلیقی نثر اور شاعری کو ایک دھارے پر لانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ تاہم نثر کے برعکس اِ س کی شاعری میں روحانی اور مابعد الطبیعاتی پہلوبہت نمایاں ہے ۔ناطق کی نظم کا بیج مٹی میں ضرور ہوتا ہے لیکن نظم اُوپر اور اُوپر اُٹھتے اُٹھتے جاودانی آسمان کی وسعتوں سے ہم آہنگ ہو کر آفاقی اسطورہ بن جاتی ہے جسے آپ غیر فانی اساطیر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں ۔مجھے ایک اعزاز رہا ہے کہ میں پچھلے پانچ برس سے علی اکبر ناطق کی تقریباً ہر نئی نظم کا اولین سامع رہا ہوں ،اِس کے باوجود کم ہی ایسا ہوا ہے کہ اُس کی نئی کاوش سُنتے وقت دل میں یہ سوال پیدا نہ ہو کہ اِس شخص کی تخلیقی صلاحیتوں کی کوئی تھاہ ہے بھی کہ نہیں ۔
زیف سید
اسلام آباد
۲۵جنوری


سُرمنڈل کا راجا

پھیلے دِنوں کی دیواروں پر بُن کر رات کے جالے
ٹھنڈے دلوں کے گاڑھے لہو پر پڑ ھ کر منتر کالے 
مَیں جادو کے دیس چلا ہوں ، جس کے پار اُجالے 
نیل سرا میں کھو جائیں گے مجھ کو ڈھونڈنے والے 



چھُونے والے، پاس آئے تو پاس نہ آنے دوں گا 
سحر نگر میں پری تماشا ،پریوں پاس رہوں گا 



آنکھ ہوا کی بھر آئے گی ،دُھندلائیں گے تارے
راہِ سفر میں جاگ اُٹھیں گے ٹھہری نیند کے مارے 
تیزاُڑ ے گی جیت ہماری اُونگھنے والے ہارے 
چھن چھن چھاجا چھنکائیں گے چُپ بیٹھے ہنکارے



پورب پچھم باجنے والا ایک خدا کا باجا 
نام ہمارے بجوائے گا سُر منڈل کا راجا



مُلک سراب کی جادو نگری اور جادو کا ٹیلا 
جوں جوں پربت پھیلتا جائے توں توں ماتھا گیلا 
آخری برفوں کی منڈلی پر پھول ازل کا نیلا
آب حیات رگوں میں جاری لیکن چہرہ پیلا
جادو گرنی مجھے پکارے ،مَیں پنکھو شرمیلا
آخر کھینچ لیا منترنے ،ایک چلا نہ حی



جادو گروں سے سنو فسانہ 
جادو گروں سے سنو فسانہ، بات کریں گے چھُو منتر
چھو منتر سے آگ بنا کر دیواروں پر ماریں گے
دیواروں پر رنگ بنیں گے آگ کی تیزشبیہوں کے
رنگ شریرنفس کے جلوے آنکھوں پر لہرائیں گے
ایک گلابی شیشے میں پھر قاف پری دکھلائیں گے
چھو منتر سے تار بُنیں گے اور ہوا پر پھینکیں گے 
قید کریں گے وقتِ قضا کو تار کی پتلی جالی میں 
جالی بند کریں گے دل میں ،صحنِ خدا میں بھیجیں گے
اور پڑھیں گے چھو منتر کا بول دوبارہ 
دِ ل پھر وقت اُچھالے گا اورزرد شفق برسائے گا 
تیرِ اُفق سے لال پرندہ پربت پر مروائے گا 
خون ملے گاچہرے پر اور ماتمی صف بچھوائے گا 
کالے دھاگے گھیر بنا کر منتر پڑھ پھونکائے گا
جادو گروں کے افسانے کو بستی چوک پھرائے گا 
جادو گروں سے سنو فسانہ 



مرے کچی رہ کے مسافرا


مرے کچی رِہ کے مسافرا 
ترے دست و پا کو سلامتی
ترے جان و دل کو امان ہو 
تری چرمِ نرم کی چھاگلیں ہرے پانیوں سے بھری رہیں ؂؂؂؂؂؂؂؂
ترے راستوں کا غباراَوس کی بارشوں سے جما رہے
ترے اُونٹ کے کھرے پیتلوں کی وہ گھنٹیاں 
جنہیں گیت گانے سے کام ہے 
جنھیں ہر قدم پہ سماعتوں سے کلام ہے 
وہ صدائے نغمہ سے پُر رہیں
سرِ شام زردِ غروب میں چھُپے پنچھیوں کے نظارا بیں
بھرے بادلوں میں لہو پھِری،گھنی سُرخیوں کے مزاج داں 
شفق آئنوں کی حجابیوں کے طلسم کھولتے سامری 
تُو سرائے اَبر عبورکر پرِ نیلگوں سے خراج لے
تُجھے منزلوں کی ہوا لگے
تجھے پر بتوں کا خدا ملے
وہ خدا کہ جس کا نزول ہے بُتِ جاں کے حر ف و کلام میں 
وہ کلام ضامنِ رہروی جو سُنائے نغمہء سرمدی 
جو بجائے باجہء دلبری
مرے کچی رہ کے مسافرا 
تری خورجیں میں پڑی ہوئی ہیں حیاتِ سُرخ کی نیکیاں 
ترے بازؤوں سے بندھی ہوئی ہیں ستونِ عرش کی ڈوریاں 
رگِ پاکے زخم سنوارتی ہیں جہانِ قاف کی باندیاں 
کسی بے نشان سرائے پر تجھے عیب وقفہ قیام کا 
مرے کچی رہ کے مسافرا



مرے چاند پانی میں جا گرے
مرے چاند پانی میں 



سُنو ! زندہ گاؤں کی بالیو 
مرے چاند پانی میں جاگرے 
چلی تہہ میں لَو کی نفیرنی
لگی کرنیں روح کی ڈولنے
اِنھیں ڈوبنے سے بچائے کون
اِنھیں ڈولنے سے ہٹاے کون
دُھلی دھوپ دیس کی دیویو 
کلی چھوئی موئی ،کنواریو
مرا ہاتھ ہلکے سنبھالیو
مَیں اُتر نے والا ہوں تال میں 
کھَرے آسماں کے شوال میں
نِرے نیل بن کے زوال میں 



مرے چاند پانی میں جا گرے 
مَیں اُٹھا لوں اُن کو شتاب سے 
ٹھرے پانیوں کی کتاب سے 
ہر ے گاؤں والی ندانیو
کھلے جوبنے کی سیانیو
یہیں پاس رکھ دویہ گاگریں
بھری چاندنی کی یہ چھاگلیں
ذرا ہاتھ پہلومیں ڈالیو 
مجھے ہولے ہولے سنبھالیو
اَری گھگرے اپنے بچا ئے کے
کڑے جھانجروں کے بجائے کے 
ہری خوشبوؤں سے گزاریوں
گھنی روشنی میں اُتاریو
کرو حوصلے سے جدا مجھے 
مَیں اُٹھا لوں اُن کو خدا کرے
مرے چاند پانی میں جا گرے 



نفیریاں بجانے والیاں 


ہمارے گاؤں آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں 
نفیریاں بجانے والیوں کے دائیں بائیں رقص میں بشارتیں 
تریل کی شراب پی کے ،سانجرے کی سُرخیوں کے ملک سے
سوار ہوکے سورجوں کی روشنی پہ آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں 
ہمارے گاؤں کے خراس والے چوک میں 
دو بیریوں کی لاگروں کے سبز سائے 
سوندھی سوندھی گاچنی سے لیپی آسنوں پہ آج پھر 
چڑھیں ہیں صندلی کنواریاں،نفیریاں بجانے والیاں 
نفیریاں بجانے والیوں کے کان کی لوَیں گلاب کی 
گلابوں کے کنارے گھومتی ہیں گول گول سی بھبھیریاں
نفیریاں بجانے والیوں کی کُرتیاں ہلال کی ،غرارے نور کے
غراروں کے حصار میں کھنکتی چار چارجھانجریں
سفیدجھانجروں کے بیچ کانچ اور پارے کی شریر پنڈلیاں
ہمارے گاؤں کے ہیں سادہ سادہ کاسنی سے گھر 
گھروں کے زندہ آنگنوں میں آگیا نفیریوں کامیٹھا میٹھا شور
بجا رہی ہیں گاؤں کی جوان بالیاں ،نفیریوں کے سنگ تالیاں 
ہمارے گاؤں آ گئیں نفیریاں بجانے والیاں 



تیری بیلیں تیرے پھول 


اک چرواہے نے کاٹی ہیں تیری بیلیں تیرے پھول 
تُونے بڑھ کر چوم لی اُس کے دو قدموں کی دُھول
لمبے دنوں کی پگڈنڈی پر چرواہے کی جھول
پور پور میں اُس کے چبھی ہے بانک پنے کی سُول
سُول قبیلے والے اُس کے ، کیکر اور ببوُل 



دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کے ہار
دُھوپ کے سائے میں بُنتاہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آجاتا ہے پورب دیس کے پار



روغنی چاندوں کی فصلوں پر چرواہے کی آنکھیں 
اورآنکھوں کی زرد شفق میں یاقوتوں کے ڈورے
کون پچھانے چرواہے کی سانس میں چلتی آگ
آگ کی لپکیں رات سمے میں صندل تن کے بھاگ
اُس پر قاتل چرواہے کی بانسریا کے راگ
جاگ نصیبوں ماری سُندری ،میٹھی رُت میں جاگ
سورج تیرے شیشہ بدن پر بیٹھا بن کر ناگ 

Saturday, January 28, 2017

عرفان صدیقی حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا



زمرد مغل
عرفان صدیقی
مسند خا ک پہ بیٹھا ہو ں برابر اپنے

عرفان صدیقی اپنے وقت کے ممتاز شاعروں میں سے تھے۔ ایسے شاعر جو زمان و مکاں کی حدود و قیود سے ماورا اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔عرفان صدیقی کی شاعری کی چمک ان کی وفات کے بعد بھی کم نہیں پڑی بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی چمک میں حیرت انگیز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ۔ مگر اس سب کے باوجود عرفان صدیقی پر بہت کم لکھا گیا اور اگر یوں کہا جائے کہ لکھا ہی نہیں گیا تو بھی بے جا نہ ہوگا۔
عرفان صدیقی کے ممتاز ترین ہمعصروں نے عرفان صدیقی پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی۔ ایسا کیونکر ہوا؟ کیا سارے ادب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔جو عرفان کی شاعری پر ہمیں ڈھنگ کا ایک مضمون بھی نہیں ملتا۔ حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ جب جب کسی جینوئن قلمکار کو یا فنکار کو نظر انداز کیا گیا ہے تو اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں نے اس ادبی گھوٹالے کو منظر عام پر لانے میں کبھی بھی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ مگر عرفان صدیقی کے لیے سرے سے کسی ایسی صدائے احتجاج سے بھی ادب کا میدان خالی دکھائی دیتا ہے۔ ایسا کیوں؟ کیا عرفان کے چاہنے والوں سے میدان خالی تھا؟ ایسا بھی نہیں ہے بلکہ عرفان صدیقی کے چاہنے والے بقیہ شاعروں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی تھے۔ تو کیا عرفان کے ساتھ تعصب کو روا رکھا گیا؟ ایسا بھی نہیں ہے عرفان صدیقی کے تعلق سے وہ تحفظات دیکھنے کو نہیں ملتے جو ادبی معاشرے کا خاصہ بن چکے ہیں۔ تو کیا عرفان صدیقی کی شاعری اتنی مشکل ہے کہ کوئی اس پر کچھ لکھنے کی ہمت نہیں کرپایا؟ ایسا بھی نہیں ہے کیوں کہ اردو ادب میں فی زمانہ ایسے لوگ موجود ہیں جو سکی بھی مشکل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ عرفان صدیقی پر لکھنے والوں نے یا تو بہت کم لکھا یا پھر سرے سے کچھ لکھا ہی نہیں؟میری مراد قابل ذکر لکھنے والوں سے ہے کیوں کہ کسی بھی قابل ذکر نقاد نے عرفان صدیقی پر قابل ذکر مضمون نہیں لکھا۔ اس کا جواب خود عرفان صدیقی کی شاعری میں پوشیدہ ہے ۔ عرفان پر لکھنا بہت مشکل اس لیے بھی ہے کیوں کہ ان کی شاعری اپنے قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ لکھنے والا عرفان پر مضمون لکھنے کے ارادے سے قلم اٹھائے گا مگر چند جملے نذر قلم کرنے کے بعد ہی عرفان کا کوئی شعر اس پر آسیب کی طرح ایسا سوار ہوگا کہ اسے دنیا و مافیہا سے بیگانہ کردے گا۔اس سحر سے باہر آنے میں ہفتوں اور مہینوں بھی لگ سکتے ہیں۔
اب عرفان صدیقی کی شاعری کی طرف چلتے ہیں ۔ عرفان صدیقی کی غزلیہ شاعری میں جو بات نمایاں اہمیت کی حامل ہے وہ ہے ان کا روایتی افراط وتفریط میں راہ اعتدال کو بحال کرنا۔ اردو کی چعری روایت میں کچھ تصورات ایسے ہیں جن کے تعلق سے شعرا یا تو افراط کا شکار رہے ہیں یا پھر رد عمل کے طور پر تفریط کا شکار ہوگئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے اور عظیم شعرا کا دامن بھی اس الودگی سے بچتا دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن یہ صرف عرفان صدیقی کا طرۂ امتیاز ہے کہ انھوں نے ان تصورات کو جن کے تعلق سے شعرا افراط و تفریط کا شکار تھے ان تصورات کو راہ اعتدال پر چلنا سکھایا۔ مثال کے طور پر تصورِ عشق کو ہی لے لیجئے جہاں ایک طرف محبوب کے وصل کے لیے یا صرف ایک جھلک ہی پانے کے لیے شعرا نے گھر بار کو تیاگ گئے ہیں۔ حکومتوں اور سلطبتوں کو ٹھوکر مارنے میں حتیٰ کہ دونوں جہان کی نعمتوں پر یار کی پل بھر کی ملاقات کو ترجیح دینے میں ذرہ بھر تردد سے کام نہیں لیا وہیں اس کا رد عمل بھی شدیدی دکھائی دیتا ہے۔ جب غالب جیسا عظیم ترین شاعر یہ کہتا دکھائی دیتا ہے :
خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں
غالب نے جہاں ہزار سالہ فرسودگی کو پائے حقارت سے ٹھکرانے کا فریضہ انجام دیا ہے وہیں وہ عشق کے مقدس جذبے کو خواہش کے لفظ کے استعمال کے ذریعے جنسیت تک لیے آئے ہیں۔ دنیا بھر میں عشق کے تعلق سے جن فرسودہ نظریات کا دور دورہ رہا ہے یا آج بھی ہے جہاں وہ افراط کی مثال ہے وہیں پہ غالب کا شعر اس کے رد عمل کے طور پر تصور عشق کی ایسی شبیہ پیش کرتا ہے جو تفریط کا شکار ہے ۔ بعد کے بڑے شعرا نے بھی لگ بھگ غالب کی روش کو اپنانے میں ہی عافیت سمجھی اور اسی رفریط زدہ تصور عشق کو فروغ دینے میں مصروف رہے ۔ مگر عرفان صدیقی نے افراط اور تفریط کے اس معرکہ میں تصور عشق کا ایک معتدل تصور پیش کیا جو ایک طرف اردو ادب کو افراط و تفریط سے پاک صاف کرتا ہے تو دوسری طرف عرفان صدیقی کو بھی اپنے عہد کے ممتاز ترین شعرا کی صف میں لاکر کھڑا کردیتا ہے ۔ 
ایسا نہیں ہے کہ عرفان صدیقی کے یہاں عشق کا ایک ہی رنگ ہے ایک ہی روپ ہے ۔ بلکہ عرفان صدیقی کی شاعری میں عشق ذات اور کائنات کے حوالے سے بھی اپنا تعارف کراتا ہے اور عام تجربات کی کسوٹی پر بھی کھرا اترتا دکھائی دیتا ہے مگر زندگی کی اس دھوپ چھاؤں میں عرفان کے تصور عشق کے بھی کئی رنگ ہیں اور کئی روپ مگر سب رنگ جس مجموعی تصور کی تعمیر کرتے ہیں وہ حد درجہ جاذب نظر ہونے کے باوجود بھی کائناتی بھول بھلیوں کا حصہ نہیں بنتی بلکہ زندگی اور وجود کو نئے جہان معنی سے متعارف کراتی ہے۔ 
عرفان کے یہاں عشق ایک ایسا جذبہ ہے جو کئی جذبوں کا مرکب ہے اس میں تکلف بھی ہے ، جذباتی کیفیات بھی ہیں، فریب خوردگی بھی ہے، روا روی بھی ملتی ہے، الغرض کئی رنگ ہیں ، کئی جذبے ہیں، کئی روپ ہیں جو عرفان کے جذبۂ عشق کی تعمیر کرتے ہیں ۔ مگر شاہراہ اعتدال کو عرفان تو سے جانے نہیں دیتے۔مثلاً عرفان کے اشعار دیکھئے :
ڈار سے اس کی نہ عرفان جدا کر اس کو
کھول دے بند وفا اور رہا کر اس کو
دیکھتے ہیں تو لہو جیسے رگیں توڑتا ہے
ہم تو مرجائیں گے سینے سے لگا کر اس کو
اس کی آنکھیں ہیں کہ اک ڈوبنے والا انسان
دوسرے ڈوبنے والے کو پکارے جیسے
دیدنی ہے مجھے سینے سے لگانا اس کا
اپنے شانو سے کوئی بوجھ اتارے جیسے
چاہت ہے کہ کہیں مجھ سے بہا کر لے جائے
تجھ سے بڑھ کر تو مجھے موج فنا چاہتی ہے
ندائے کوہ بہت کھینچتی ہے اپنی طرف
مرے ہی لہجے میں وہ حیلہ جو پکارتا ہے
تو کیا بدن کا بھی صدقہ حرام ہے ہم پر
یہاں بھی ترک طلب کا سوال آئے گا کیا
میں تو اک بادل کا ٹکڑاہ ہوں اڑا لے چل مجھے
تو جہاں چاہے وہاں موج ہوا لے چل مجھے
ایک دن اس لمس کے اسرار کھلنا جسم پر
ایک شب اس خال میں برق و شرر کا جاگنا
عشق میں ہم کوئی دعویٰ نہیں کرتے لیکن

عرفان صدیقی اس بات سے باخبر ہیں کہ کوئی بھی جذبہ دائمی نہیں ہوتا نہ ہمیشہ کے لیے ٹھہرتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ کے لیے رخصت ہوتا ہے بلکہ مختلف اوقات میں مختلف تجربات کا سامنا ہی زندگی سے عبارت ہے۔ ایک ہی شخص ایک وقت میں بہت مخلص ہوتا ہے جب کہ کسی دوسرے وقت میں اس سے نفاق کی بو آتی ہے ، کسی اور وقت میں وہ ظالم کا روپ دھارن کرلیتا ہے پھر کسی وقت وہ حددرجہ مہربان اور شفیق دکھائی دیتا ہے ۔ کسی بھی جذبے کو بنیاد بنا کر کسی شخص کے تعلق سے کوئی رائے قائم کرنا نفسیات انسانی کی ابجد تک سے واقفیت کی دلیل ہے۔ یہاں یہ الگ بات ہے کہ کچھ جذبے بذات خود تو عارضی ہوتے ہیں مگر ایسے فیصلہ کن نتائج کا اعلان کرجاتے ہیں جن کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اور پھر کسی بھی طرح ان کی بھر پائی نہیں ہوپاتی۔
عرفان صدیقی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب پرانے اور فرسودہ نظریات اپنا بوریا بستر سمیٹنے میں مصروف تھے، چہار دانگ عالم میں کو آنٹم میکنکس کا دور دورہ تھا۔ فلسفہ تو فلسفہ سائنس کے بھی کلاسیکی نظریات کو بیک قلم مسترد کردیا گیا تھا، البرٹ آئینسٹائن کے نظریۂ اضافت کا ہرطرف چرچا تھا۔ آئینسٹائن نے نظریۂ اضافت کے ذریعے یہ ثابت کردیا تھا کہ مادہ توانائی میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ وقت ہر موجود کا چوتھا بعد ہے۔ زمان و مکاں مل کر ہی کسی وجود کی تکمیل کرتے ہیں۔ آئینسٹائن نے دنیا کو انگشت بد نداں کر رکھا تھا۔ جہاں ساری دنیا کا ادب اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا وہیں اردو شاعری نے بھی اس کا خاطر خواہ اثر لیا۔ آخر اردو شاعری میں بھی ساقی فاروقی ، ظفر اقبال اور منیر نیازی جیسے شعرا موجود تھے ۔ جو ایک طرف نئے نظریات کے گہرے ادراک سے متصف تھے تو دوسری طرف ان کی جڑیں روایت میں بھی بہت دور تک پیوست تھیں۔عرفان صدیقی کے اشعار میں بھی اس کی جھلک ملتی ہے۔ اور خوب ملتی ہے :
یہ مشک ہے کہ محبت مجھے نہیں معلوم
مہک سی میرے ہرن کی طرف سے آتی ہے
کسی کے وعدۂ فردا کے برگ و بار کی خیر
یہ آگ ہجر کے بن کی طرف سے آتی ہے
نبض عالم میں رواں تیری حرارت ہی تو ہے
کہ یہ عالم تیرے ہونے کی بدولت ہی تو ہے
اس شعر میں تو عرفان نے Big Bang Theory سے لے کر Quantum Mechanics تک کا سفر جتنی آسانی سے کیا ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ یہی عرفان صدیقی کی خوبی ہے کہ انھوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اس میدان کے تعلق سے بڑا شعر ضرور کہا خواہ وہ میدان تاریخی اتھل پتھل سے متعلق رکھتا ہو، قدروں کے زوال سے عبار ہو، فلسفہ سے متعلق ہو، کربلا کا واقعۂ حق و باطل ہو یا پھر ازل سے جاری معرکۂ خیر و شر کے مضامین اپنے اندر لیے ہوئے ہو، تصوف کا کوئی مضمون ہو ، الغرض جو بھی میدان عرفان نے اپنا تختۂ مشق بنایا تو اس میں بڑا شعر بھی ضرور کہا۔ اور کیوں نہ ہو آخر عرفان بہ زبان عرفان:
مرے پتھر ہونٹ حکایت ہیں
میں حرف تری محرابوں کا
اور محرابوں کے اسی حرف نے جب شکوہ کی صورت اختیار کی تو وہاں بھی اپنے آپ کو منوائے بغیر دم نہیں لیا۔ مثلاً ہمارے سامنے اقبال کا شکوہ ہے جو بہت مشہور ہونے کے باوجود فنی اعتبار سے اتنا بلند نہیں جتنا بلند عرفان صدیقی کا غیر معورف شکوہ ہے۔ بعض ناقدین کی رائے میں اقبال کے شکوہ میں غیر ضروری حوالے ہیں مگر عرفان کے یہاں ایسا نہیں ہے۔۔مثلاً اقبال کہتے ہیں :
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
یہ اور اسی طرح کی بہت سی باتوں کے ذریعے علامہ اس بارگاہ رب العزت کو یاد دہانی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے
پہلی بات تو یہ کہ اقبال کا شکوہ بے جا ہے۔ کیوں کہ وہ لوگ جنھوں نے صبر و شکر اور قربانیوں کی عظیم تاریخ رقم کی تاریخ کے صفحات شاہد ہیں کہ انھیں بارگاہ رب العزت نے اس دنیا میں بھی بہت نوازا۔ اور جو لوگ ذلیل و خوار ہیں ان کے کردار میں بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے والوں کی ہلکی سی جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر طومار باندھنے کی کیا ضرورت تھی۔ جب کہ دوسری طرف عرفان صدیقی خدا کو اس کے قول و اقرار اور عہد و پیمان کے حوالے سے شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور عرفان شکوہ کے ذریعے صرف ناکامی کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں ۔ الحاصل اس شکوہ میں بھی یہ اعتراف چھپا ہوا ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ بھی ہماری کرنی کا نتیجہ ہے۔ عرفان کے چند شعر ملاحظہ فرمائیے:
حق فتحیاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا
تونے کہا تھا تیرا کہا کیوں نہیں ہوا
جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا جنتا ہوں میں
جو کچھ نہیں ہوا وہ بتا کیوں نہیں ہوا
وہ شعلہ ساز بھی اس بستی کے لوگ تھے
ان کی گلی میں رقص ہوا کیوں نہیں ہوا
کیا جذب عشق مجھ سے زیادہ تھا غیر میں
اس کا حبیب اس سے جدا کیوں نہیں ہوا
جب خدا اس زمیں پہ اٹھائے گئے تو پھر
برپا یہیں پہ روز جزا کیوں نہیں ہوا
عرفان صدیقی کی مشکل یہ ہے کہ انھوں نے جن موضوعات کو اپنی شاعری میں سمویا وہ ایک خاص عقیدے کی ترجمانی کرتے تھے اور ان موضوعات کے ہونے پر انھوں نے بڑی شاعری کی مگر دوسری طرف انھیں موضوعات کو لے کر بہت سے دوسرے شعرا نے جب طبع آزمائی کرنی شروع کی تو ان کے اشعار سرے سے کسی لائق ہی نہیں تھے ۔ اس بنا پر ان کے چاہنے والوں کا ایک حلقہ پیدا ہوگیا جو ان کی شاعری سے زیادہ ان کے خیالت کا گرویدہ تھا اس بنا پر انھوں نے جب بھی عرفان صدیقی کا ذکر کیا تو ساتھ میں ایسے ایسے شعرا کو بھی نتھی کرنا شروع کردیا جو سر سے کسی لائق ہی نہیں تھے۔ دوسری طرف ان کے ہم عصروں میں بڑی شاعری کرنے والے شعرا کے عقائد کے بجائے ان کی شاعری کی پذیرئی کرنے والا حلقہ پیدا ہوگیا جس نے بقیہ سب شعرا کو مختلف عقائد کا علمبردار ہونے کے باوجود ایک لڑی میں پرو دیا۔مگر عرفان صدیقی کو انھوں نے عقیدہ و خیال کی بنیاد پر ہی اس گروپ میں شامل نہیں کیا۔ عرفان صدیقی شاعری کے اعتبار سے ساقی فاروقی ، ظفر اقبال، منیری نیازی، شہریار، احمد مشتاق کے سلسلے کے شزعر ہیں اور موضوعات کے اعتبار سے وہ ایسے ایسوں کے ساتھ نتھی ہوگئے جن کی شاعری کسی درجہ میں بھی عرفان صدیقی کی شاعری کے رتبے کی نہ تھی عرفان صدیقی کو بالا آخر انصاف ملا ان کے خیالات کے تقدس اور ان کی شاعرانہ بصیرت کو اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافے کے طور پر قبول کرلیا گیا۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ، لیکن اس سے یہ اندازہ توہوتا ہی ہے کہ ہمارے ادبی معاشرے میں بھی مسلکی منافرت کی جڑیں کتنی گہری ہیں۔ کوئی صاحب اگر خاص مسلک کا ہونے کی وجہ سے اس مسلک کے قابل خر ادیب کے ساتھ تیسرے درجے کے اہلیان مسالک ادیبوں کو نتھی کرتا ہے تودوسری طرف دوسرے مسالک کے نقاد دوسرے مسلک کے اس قابل ذکر یا بڑے یا اچھے ادیب کو ہی سرے سے نظر انداز کردیتے ہیں۔
عرفان صدیقی نے اگرچہ فارمولہ ٹائپ یا سکہ بند شاعری سے گریز کیا لیکن انھوں نے اپنے سب سے گہرے تجربات اور سچے اور کھرے جذبات کو شعری جامہ پہنانے میں بھی کسی قیل وقال سے کام نہیں لیا۔ واقعۂ کربلا کو بھی وہ استعاراتی سطح پر اس کو اسی ازلی معرکۂ خیر و شر کی ہی کڑی مانتے ہیں ۔ اسی لیے انھیں میدان کارزار میں سرگرم لوگ پیادوں سے زیادہ کی حیثیت کے دکھائی نہیں دیئے کیوں کہ ان کی نگاہ دوربیں پردے کے اس پار دیکھتی ہے جہاں پر بیٹھ کر وہ راندۂ درگاہ سارا کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ عرفان کا شعر ہے:
تو نے مٹی سے الجھنے کا نتیجہ دیکھا
ڈال دی میرے بدن نے تیری تلوار پہ خاک
اس شعر کو پڑھتے ہی پڑھنے والا ابلیس کے انکار سے لے کر آدمؑ کے زمین پر آباد سے لے کر کشتئ نوح کے دل دہلا دینے والے واقعے سے ہوتے ہوئے کربلا کے میدان سے بھی گزرجاتا ہے۔ کیوں کہ اسے یاجوج ماجوج کی افواج ، دجال کے خروج، مہدی کے ظہور اور عیسیٰ ؑ کے نزول کے مرحلے بھی طے کرنے ہوتے ہیں۔ عرفان صدیقی کی شاعری کا یہی وصف ہے کہ وہ بہت کم وقت میں شعور سے لا شعور کا فاصلہ طے کرتی ہے۔
عرفان صدیقی پر جتنا بھی لکھا جائے یا جتنا بھی لکھا جائے گا وہ عرفان صدیقی کی شاعری کی عظمتوں کی بین دلیل ہوگا۔ یہ مست قلندر سب سے جدا سب سے الگ غزل سرا رہا۔ سچ ہی کہا ہے عرفان صدیقی نے:
کوئی سلطان نہیں میرے سو امیرا شریک
مسندِ خاک پہ بیٹھا ہوں برابر اپنے